پتہ نہیں
پتہ نہیں
****
کوئی آۓگا نہیں یہ پتہ ہے
انتظار میں بیٹھا کیوں ہوں، یہ
پتہ نہیں،
کوئی بلاےگا نہیں یہ پتہ ہے لیکن
کورٹ و پتلون کیوں پہنے ہوئے ہوں، یہ
پتہ نہیں،
اپنے چہرے کی کیفیت معلوم ہے
بار بار آئینہ کیوں دیکھا ہوں، یہ پتہ نہیں۔
پتے کی بات آج کل کوئی کرتا نہیں
لوگوں کا پتہ تب کیوں پوچھتا ہوں، یہ
پتہ نہیں۔
مجھے معلوم ہے کہ زندگی ہے بے
وفا
اسے رجھانے کی خواہش کیوں ہے یہ
پتہ نہیں۔
اب انجام سفر کیا ہوگا پتہ نہیں،
رہجن سے کب-کہاں ہو جائے سامنا، یہ
پتہ نہیں۔
***
~بصد احترام
راجیو رنجن پربھاکر
Comments